کشمیر پاکستان کی شہہ رگ |Urdu Essay|2nd Year

Urdu Essays 2nd Year

کشمیر پاکستان کی شہ رگ

بابائے قوم نے فرمایا:

”کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے“

کشمیر برصغیر پاک و ہند کا شمال مغربی علاقہ ہے۔ تاریخی طور پر کشمیر وہ وادی ہے جو ہمالیہ اور پیر پنجال کے پہاڑی سلسلوں کے درمیان میں واقع ہے۔ کشمیر کی وادی سیکڑوں سالہ پرانی تاریخ اسلامی روایات کی امین ہے۔ کشمیری مسلمانوں نے قیام پاکستان سے قبل ہی اپنا مستقبل نظریاتی طور پر پاکستان کے ساتھ وابستہ کر دیا تھا۔ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان اہم ترین تنازعات میں مسئلہ کشمیر اولیت کا حامل ہے۔ پاکستان اور بھارت دونوں مسئلہ کشمیر پر ایک بنیادی نظریے پر کھڑے ہونے کا دعوٰی کرتے ہیں۔تقسیم ہندکے دوران جموں و کشمیر برطانوی راج کے زیر تسلط ایک ریاست تھی۔  جس کی آبادی 95 فیصد آبادی مسلم تھی۔   یہاں کے سکھ حکمران نے بھارت سے الحاق چاہا لیکن تحریک پاکستان کے رہنماؤں نے اس بات کو مسترد کیا۔ آج بھی پاکستان کا ماننا ہے کہ کشمیر میں مسلمان زیادہ ہیں اس لیے یہ پاکستان کا حصہ ہے اور بھارت کا ماننا ہے کہ اس پر سکھ حکمران تھا جو بھارت سے الحاق کرنا چاہتا تھا اس لیے یہ بھارت کا حصہ ہے۔ یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جایا  گیا جو کہ اب تک  التوا کا شکار ہے۔ اس تنازعے کا واحد حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے تناظر میں کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرنا ہے۔پاکستان اور بھارت دونوں جوہری طاقتیں ہیں جو کشمیر کے آزادی اور خود مختاری کو بامسئلہ کشمیر دنیا کے خطرناک ترین علاقائی تنازعات میں سے ایک شمار کرتے ہیں۔ دونوں ممالک کشمیر پر تین جنگیں لڑچکے ہیں جن میں 1947ء کی جنگ، 1965ء کی جنگ اور 1999ء کی کارگل جنگ شامل ہیں۔ ہندوستان کشمیریوں کی آواز کو دبانے کے لیے ہر دور میں اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتا آیا ہے، حتیٰ کہ کشمیریوں کی  نسل کشی تک کوششیں بھی شامل ہیں۔

        کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے،  یہی الفاظ حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ نے کہے تھے۔ تاریخ اور جغرافیہ کے حساب سے کشمیر پاکستان کا حصہ ہے لوگوں کی رسوم و رواج، ثقافتی اقدار، زبان، تجارتی راستے، مذہب اور زمینی پیوستگی سب کی سب ایک ہیں پاکستان اور کشمیر دونوں ایک ہی جغرافیائی وحدت میں پروئے ہوئے ہیں۔ سیاسی اور اقتصادی اعتبار سے ایک دوسرے سے متصل بلکہ ناقابل تقسیم ہیں۔

        پاکستان کے بیشتر دریا کشمیر سے نکلتے ہیں یعنی ان کے منبے کشمیر میں ہیں یوں پاکستان کی رگوں میں دوڑتا لہو کشمیر سے آتا ہے دوسری طرف پاکستان کشمیر کیلئے اتنا ہی اہم ہے ایک تو مذہبی رشتہ اور دوسرے ہندوستان جیسے پڑوسی کی موجودگی میں اس کے تحفظ کی ضمانت اسی میں ہے کہ وہ پاکستان کا حصہ بنے۔ پاکستانی اور کشمیری عوام کبھی ایک دوسرے کو الگ سوچ بھی نہیں سکتے اور یہی وجہ ہے کہ بھارت گذشتہ تریسٹھ سال سے جو مظالم ڈھارہا ہے اس پرپاکستانی عوام ہمیشہ دکھ کا شکار بھی ہوتے ہیں اور غم و غصے کا بھی۔

یہ جنت نظیر وادی اپنا منفرد ثقافتی ورثہ رکھتی ہے ۔اس کی بنیاد صرف اور صرف اسلام پر ہے۔ یہاں کے آزاد منش مسلمانوں کے دلوں پر اسلام کی مہر ثبت ہے۔ رنگینیئِ فطرت کے اس خطے میں فنِ تعمیر’ فنِ خطاطی’ فنِ پیپر ماشی’ فنِ چوب کاری’ فنِ حرب’ چاندی و پیتل کے ظروف پر بیل بوٹے کا کام’ کڑھائی سلائی اور دیگر آلات میں اسلامی اقدار کی جھلکیاں ملتی ہیں۔ وادیِٔ کشمیر کی مساجد’ خانقاہیں’ مزارات و عمارات حسن و زیبائش اور کاریگری کے نمونوں میں دل پذیر ہیں۔ شادی و غمی اور دیگر مواقع پر محبت و یگانگت کے جذبات کا انوکھا اور پرکشش اظہار اس وادی کا طرۂ امتیاز ہے۔

 سیکڑوں سالہ امن و آشتی اور پیار کی یہ وادی آج انگار وادی بنی ہوئی ہے جس کا ایک ایک پتہ خون کے آنسو رو رہا ہے’ ہر سائبان لہولہان ہے اور ہر مسلمان کلمۂ حق بلند کرتے ہوئے خون کے آنسو پی رہا ہے۔ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے اہلِ کشمیر کی انقلابی تحریک کو اپنی شاعری کا پیرہن عطا ء کرتے ہوئے کلیاتِ اقبال ، اُردو اور فارسی میں کشمیر کے بارے میں اپنے حسنِ تخیل کا کچھ یوں اظہار کیا ہے ۔ 
آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر
کل جسے اہلِ نظر کہتے تھے ایرانِ صغیر
سینۂ افلاک سے اٹھتی ہے آہِ سوز ناک
مردِ حق ہوتا ہے مرعُوبِ سلطان و امیر
کہہ رہا ہے داستاں بیدردیٔ ایام کی 
کوہ کے دامن میں وہ غم خانۂ دہقانِ پیر

        اس حقیقت کو کوئی انصاف پسند قوم نظر انداز نہیں کر سکتی کہ کشمیر تمدنی ، ثقافتی ، جغرافیائی ، معاشرتی اور سیاسی طور پر پاکستان کا حصہ ہے ۔ جب بھی اور جس نقطۂ نظر سے بھی نقشے پر نظر ڈالی جائے گی یہ حقیقت واضح ہوتی جائے گی کہ کشمیر سیاسی اور دفاعی حیثیت سے پاکستان کی شہ رگ ہے کوئی ملک اور قوم یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ اپنی شہ رگ کو دشمن کی تلوار کے نیچے دے دے ۔ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے ،ایک ایسا حصہ جسے پاکستان سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

        کشمیر مسلم اکثریت کی ریاست ہے ۔ یہاں بتیس لاکھ مسلمان آباد ہیں، جن کا خدا ایک، رسول  ایک ، کعبہ ایک اور قرآن ایک۔ لہٰذا ان کو تنظیم میں منسلک ہوکر آزادی کی جدوجہد کرنی چاہئے۔ برصغیر کے دس کروڑمسلمانوں کی ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو کر رہیں گے۔  کشمیر میں رہنے والی  مکمل آبادی  کی  ایک ہی خواہش ہے کہ حق خوداردیت  کا بنیادی حق عطا کیا جائے۔ کشمیری مسلمان ہر روز بھارتی ظلم وستم کا نشانہ بن رہے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کی زبان پر ایک ہی نعرہ ہے ”کشمیر بنے گا پاکستان“۔کشمیریوں کا جذبہئ حریت جواں ہے اور وہ اپنی تحریک اسی شدت سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انشاء اللہ کشمیریوں کی تحریک جلد کامیابی سے ہمکنار ہو گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دنیا کے ہر پلیٹ فارم پر دنیا کو بتا دیں کہ کشمیر کل بھی ہمارا تھا اور کشمیر آج بھی ہمارا ہے۔کشمیری عوام کے ساتھ تھے،ہیں اوررہیں گے۔

Tags

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker